Teachers day
*معلم کا قد اونچا ہوتا ہے سماج میں*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از قلم:-بڈھن سر قریشی
مدرس الہدیٰ اردو اسکول بھوکردن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہندوستان بھر میں کاروباری لاٸن سے کٸی سارے اسکول کالج و ادارے پیشہ وارانہ تعلیم دیتے ہیں جن کی وجہ سے سماج میں سماج کے لٸےبہترین افراد مہیا ہوتے رہتے ہیں۔اس پیشہ وارانہ تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوٸے ہم پیشہ معلمی کی جانب بڑھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ پیشہ معلمی کا سماج میں کیا مقام ہوتا ہے۔
محترم قارٸین! کسان کھیت میں ہل چلاتا ہے اورکھیت کو مکمل قابل کاشت بناتا ہے تو ان کھیتوں سے ساری عوام کو اناج کی فراہمی ہو جاتی ہے ، ایک معمار (مستری )اینٹوں اور پتھروں سے انسان کے رہنے کے لٸے بہترین گھر کی تعمیر کرتا ہے ، اسی طرح ایک معلم بھی ننھے منے نو نہالوں کو ادب تہذیب وسلیقہ مندی کے گر سکھاتا ہے یہاں تک کہ طلبہ اس میں خوب ماہر ہو جاتے ہیں اور وہ طلبہ دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتے ہیں یعنی یہ معلم قوم کو سدھارنے والا ،سماج کو راہ راست پر لانے والا کہلاتا ہے جس کے لٸے ”معمار قوم“ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور حقیقت میں وہ ہی معلم معمار قوم ہوتا ہے جو بے شعور افراد کو با شعور بنادے۔
قارٸین کرام ! ہمارا سماج کٸ پیشہ وارانہ کاروبار سے جڑا ہوا ہوتا ہےمگر سب ہی لوگ صبح سویرے اٹھ کر یا تو دفتر آفس چلے جاتے ہیں یا کسی کمپنی میں کام کرنے کے لیے چلے جاتے ہیں اور اس طرح وہ ڈیوٹی بجا لانے میں مصروف عمل ہو جاتے ہیں اوران حضرات کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ ہمارے پڑوس میں کون رہتا ہے اس کی کوٸی ضرورت بھی ہے جو ہم پوری کردیں۔نہیں ۔۔۔۔۔بالکل نہیں۔۔۔۔! بس اپنی آفس جانااور اپنے گھر واپس آنا یا اپنے دیگر کام انجام دینا ، دوسروں کی طرف کوٸی توجہ نہیں ہوتی۔
اس کے بالمقابل اگر سماج سے معلم کی شخصیت کو لے کر ہم بات کریں تو ہمیں یہ اندازہ ہوگا کہ معلم جب گھر سے اپنی ڈیوٹی کے لٸےنکلتا ہے تو راہ چلتے ہوٸے بھی وہ اپنی اسکول کے طلبا و طالبات کو سمیٹتے ہوٸے چلتا ہے۔ایک معلم کی یہ چاہت ہوتی ہے کہ میری اسکول اور میرے گاٶں کا ہر بچہ علم کی روشنی سے منور ہوجاٸے۔وہ دین و دنیاوی علم حاصل کرکے ایک بہترین انسان بنے ، ہنر مند بنے اور اپنے مستقبل کو روشن بناٸے۔طلبا و طالبات میں علم کی جوت جگانے کے لٸے واسکولی سطح پر مختلف ثقافتی و دیگر پروگرام منعقد کرکے لوگوں کے دلوں میں تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ پروان چڑھاتا ہے تاکہ جہالت کے اندھیرے سے ہم کوسوں دور نکل کر علم کی روشنی حاصل کرلے۔معلم کا یہ مقصد تا حیات جاری رہتا ہے ۔معلم طلبا و طالبات کو اسکول کی حاضری کے لٸے گھر گھر جاکر سمجھاتا مناتا ہے جبکہ یہ کام ان طلبا کے سرپرستوں کا ہوتا ہے کہ وہ طلبا کو وقت مقررہ پر مدرسہ روانہ کریں!! لیکن کاش!۔۔۔۔۔کاش کہ کوٸی سمجھے کہ تعلیم کی اہمیت کیا ہے؟۔
ایک معلم کو یہ بھی فکر ہوتی ہے کہ کوٸی بچے کی تعلیم میں غربت حاٸل ہورہی ہو تو وہ طالب علم کی ذاتی طور پر مددبھی کرتا ہے تاکہ یہ بچے اپنی تعلیم کو مکمل کرسکے۔
محترم قارٸین! لوگ دفتروں آفسوں میں روزانہ ڈیوٹی کرتے ہیں ۔کوٸی ضلع پریشد میں اپنی خدمت انجام دیتا ہے تو کوٸی تحصیل آفس میں، کوٸی مہانگر پالیکا اور نگر پالیکا تو کوٸی گرام پنچایت میں اپنے فراٸض انجام دیتا ہے،کوٸی پولس محکمہ وغیرہ میں خدمت کرتا ہے بہرحال ہر شخص اپنے اپنے کام میں مصروف عمل ہےلیکن ان ننھے منے پیارے پیارے ہمارے دیش کے مستقبل کے بارے میں کوٸی نہیں سوچتا کہ ان بچوں کا کیا ہوگا۔ہاں وہ اپنے خود کے بچوں کو ضرور دیکھیں گے۔
لیکن سماج میں معلم کی ہی ایک واحد شخصیت باقی ہے جو اپنے خود کے بچوں سے زیادہ قوم کے بچوں کی فکر میں ہر وقت محو و مگن رہتا ہے۔
یقیناً قابل مبارکباد ہے وہ معلم جو ان تمام کاموں کو بخوبی انجام دیتے ہوٸے نہایت خوشی و مسرت محسوس کرتا ہے اس لٸے *سماج میں ایسے معلم کا قد اونچا ہو جاتا ہے*
اور اس کو عزت کا مقام حاصل ہوتا ہے۔
بہت بہترین مضمون
ReplyDeleteVery nice very best
DeleteThanks
ReplyDelete