Yaseen Seth Qureshi Bhokadan

*ہر آنکھ اشک بار یے*

تیرا ذکر میرے مولا دن رات کرتے کرتے
میری بات بن گئی ہے تیری بات کرتے کرتے
میں مرا نہیں ہوں لوگو تمھیں بھول ہورہی ہے
میری آنکھ سو گئی ہے تیری یاد کرتے کرتے

محترم قارئین کرام ! ہم اس باذوق، با ادب،سماجی خدمت گار،عوام الناس کیے ملی مذہبی سماجی و سیاسی مسائل کو بہت جامع انداز میں حل کرنے کی دیرینہ صلاحیت رکھنے والی باوقار شخصیت کی بات کر رہے ہیں جو ایک معمولی حادثہ کا شکار ہوکر تقریبا" آٹھ سے دس دن پہلے کے وقفہ کے بعد اپنے معبود حقیقی کو لبیک کہتے ہوئے اس دار فانی سے کوچ کر گئے جن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ جنھیں الحاج یٰسین سیٹھ قریشی سے بھوکردن و بھوکردن تعلقہ کے علاوہ اورنگ آباد اور مراٹھواڑہ و ودربھ کے بیشتر علاقوں میں جانا پہچانا جاتا تھا ـ
مرحوم الحاج یٰسین خاں قریشی جن کا کاروبار بیلوں کا لین دین تھا لیکن اسی کے ساتھ ساتھ سماج سے جڑے ہر قسم کے مسائل کا حل ڈھونڈ نکالنا موصوف کی فطری عادت تھی ـ موصوف کو اردو ادب سے کافی ذوق اور لگاؤ تھا اور وہ اس لئے کہ آپ نے اردو کے  کئی مشاعرے منعقد کروا کر لوگوں کے دلوں میں اردو سے محبت کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ـ مشاعروں سے ذوق لگاؤ اور دلچسپی سے آپ کی اردو دوستی اور ادب کے مظاہرے کا پتہ چلتا ہےـ
مذہبی شخصیت:-عام طور پر جانوروں کے کاروبار کرنے والے حضرات کا عزر رہتا ہے کہ ان کے کپڑے خراب ہو جاتے ہیں جسکی وجہ سے انکی نمازیں چھوٹ جاتی ہیں لیکن موصوف اس کے بالکل متضاد تھےـ آپ پنج وقتہ نماز کے پابند اور رمضان المبارک کے مہینے بھر کے روزوں کا خاص اہتمام کرتے تھے یہاں تک کہ لیلتہ القدر کی تلاش میں اکثر مسجد ہی کو اپنا مسکن بنالیتے تھے ـ ذکٰوت و صدقات دینا آپ کی فطرت میں شامل تھا اس کے علاوہ آپ غربا اور مساکین کی غائبانہ انداز سے مدد کردیا کرتے تھے ـ
سیاسی و سماجی مسائل:-موصوف سیاست نہیں کرتے تھے مگر سیاسی داؤ پیچ سے بخوبی واقف تھے اور مختلف گروپوں میں ہونے والے سیاسی تناؤ کو پل بھر میں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے اس وجہ سے آپ کوسماج میں اونچا مقام حاصل تھاـ
کسان نوازی:- یہ بیلوں کے بیوپاری ضرور تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ کسانوں کے بہترین دوست بھی تھےـ عام طور پر موصوف کو کسانوں کا اےـ ٹی ـ ایم  بھی کہا جاتا تھا کیونکہ جب بھی کسی دیہات میں یا اپنے شہر میں کسی کسان کو روپیے پیسوں کی ضرورت محسوس ہو یا بیلوں کی ضرورت ہو تو آپ بلا تفریق مذہب و ملت غیر مسلم کسان بھائیوں کو بھی تعاون کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ کو کسانوں کا ATM  کہا جاتا تھا ـ اسی طرح ان کو چلتا پھرتا کمپیوٹر بھی کہا جاتا تھا کہ سارا کا سارا حساب کتاب صرف اور صرف زبانی اس کا کوئی تحریری رکارڈ نہ تھا ـ
غرض کہ موصوف بہت ساری خوبیوں کے حامل تھے جس کی وجہ سے آپ کی نماز جنازہ میں ہر گاؤں اور شہر کے مسلم اور غیر مسلم بھائیوں نے شرکت کرکے اپنی والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کیا ہے ـ کہا جاتا ہے کہ بھوکردن اور تعلقہ بھر میں اپنی محبت اور عقیدت مندوں کا تانتا باندھنے والا یہ پہلا شخص تھا کہ جس کی نماز جنازہ میں لا تعداد ہندو مسلم افراد نے شرکت کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی اور موصوف کی جدائی سے بھوکردن اور تعلقہ بھر کے ہر عام و خاص، مسلم و غیر مسلم کی آنکھیں اشک بار ہو گئی ـ

از قلم:- بڈھن قریشی مدرس الہدیٰ اردو اسکول بھوکردن
موبائیل: -9970211981
Show quoted text

Comments

Popular Posts