جنگ بدر 15.04.2022
*اسلام اور کفر کے درمیان پہلی جنگ تھی ' جنگ بدر'*
بڈھن قریشی، مدرس الہدیٰ اردو اسکول بھوکردن، 9970211981
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
*بدر* :- بدر ایک گاؤں ہے جو مدینہ منورہ سے اسی(۸۰) میل کے فاصلے پر واقع ہے ـ
*تفصیل* :- ۲ھ میں آپ صلعم کو یہ اطلاع ملی کہ مکہ والوں نے ملک شام میں ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ روانہ کردیا ہے ـ اس تجارتی قافلے سے جو بھی نفع حاصل ہوگا وہ سارا روپیہ مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے استعمال کیا جائےگا ـ اس اطلاع کے ملتے ہی رسول اکرم صلعم نے دس تا بارہ آدمیوں کو تفتیش (حالات معلوم کرنے) کے لئے شام کی سرحد پر روانہ کردیا ـ اتفاق سے مکہ کے قافلہ کے کچھ لوگ جو شام سے مال تجارت لارہے تھے ان کا مسلمانوں سے جھگڑا ہوگیا اور اس جھگڑے کی وجہ سے مکہ کا ایک آدمی 'عمر و بن حضر ' مارا گیا جس کی وجہ سے کفار مکہ بوکھلا اٹھے اور عمر و بن حضر کے انتقام کے نام سے مکہ والوں کو مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا بہانہ مل گیا جس کی وہ تلاش میں تھے ـ وہ فورا" ہی بڑےلشکر کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے ـ یہ لشکر تقریبا" ایک ہزار آدمیوں کا تھا ـ جس میں سو سواروں کا ایک رسالہ بھی تھا ـ اس کے علاوہ روسائے قریش کی ایک بہت بڑی تعداد بھی اس لشکر میں شریک تھی ـ غرض کہ مسلمانوں کو صفئ ہستی سے مٹانے عتبہ بن ربیعہ کی سر کردگی میں یہ لشکر بدر کے میدان میں خیمہ زن ہو گیا ـ
*خصوصیات*: - جنگ بدر کی کئی خصوصیات ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں ـ
*یہ جنگ زبردستی مسلمانوں کے سر تھوپی گئی تھی جب کہ مسلمان لڑنا نہیں چاہتے تھے ـ
* مسلمانوں نے یہ جنگ جارحانہ مقصد کے لئے نہیں بلکہ مدافعت کے لئے لڑی تھی ـ
* اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد مخالفین کے مقابلے میں ایک تہائی تھی جبکہ مسلمانوں کو انتہائی بے سرو سامانی کے عالم میں یہ جنگ لڑنی پڑی تھی لیکن خدا کی قدرت سے مسلمانوں کو اس جنگ میں ایسی عظیم الشان کامیابی اور فتح حاصل ہوئی کہ دنیا حیران رہ گئی ـ
*مجلس مشاورت* رسول صلعم کو جب پتہ چلا کہ کفار مکہ بدر میں آ پہنچے تو آپ صلعم نے تمام مہاجرین و انصار کو جمع کرکے ایک مجلس مشاورت منعقد کی اور فرمایا کہ" مکہ والوں نے تم سے لڑنے کے لئے اپنے منتخب آدمی بھیجے ہیں ان سے مقابلہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ـ"
حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور دیگر مہاجرین نے بڑی جسارت کے ساتھ مقابلے کے لئے آمادگی کا اظہار کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلعم ہم جان و مال کی قربانی کے لئے تیار ہیں ـ اسی طرح آپ صلعم انصار کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے مشورہ فرما یا تو انصار نے مہاجرین سے زیادہ جرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ کیسے ممکن ہے خدا کا رسول تو کفار سے مقابلے کے لئےجائے اور ہم گھروں میں بیٹھے رہیں ـ اگر آپ صلعم ہم کو حکم دیں تو ہم سمندر میں کود پڑیں گے " ـ
مہاجرین اور انصار کی یہ ہمت اور جرات دیکھ کر رسول اکرم صلعم نے بھی جنگ کیتیاری کا حکم دیدیا ـ
*مسلمانوں کی مختصر فوج اور جنگ بدر*:- ۱۲ رمضان - ۲ ھ کو رسول اکرم صلعم اپنے مختصر سے لشکر کو لیکر شہر سے باہر نکلے ـ تھوڑی دور چل کر آپ نے اپنی فوج کا جائزہ لیا تو اس میں کچھ کم عمر لڑکے بھی شامل تھے جو واپس کردئیے گئے ـ عمر بن ابی وقاص بھی کم سن ہی تھے جب انھیں واپس جانے کے لئے کہا گیاتو رو پڑے اور بلند قامت ہونے کے لئے پنجوں کے بل کھڑے ہو گئے تاکہ جنگ میں جانے کی اجازت مل جائے ـ آپ صلعم اس کم سن سپاہی کی جرات کو دیکھ کر مسکرائے اور آپ صلعم نے انھیں جنگ میں حصہ لینے کی اجازت فرمادی ـ اس کمسن سپاہی سمیت فوج کی کل تعداد ۳۱۳ تھی جس میں ساٹھ مہاجر اور دو سو ترپن انصار تھے ـ
اسلامی لشکر کی بے سر و سامانی کا یہ عالم تھا کہ اس پورے لشکر میں صرف دو گھوڑے اور ستر (70) اونٹ تھے ـ ایک ایک اونٹ پر تین تین چار چار صحابی سوار تھے ـ خود رسول اللہ صلعم جس اونٹ پر تشریف فرما تھے اس پر بھی آپ کے علاوہ دو تین شخص اور بھی سوار تھے ـ بعض مجاہدین تو پیدل ہی تھے معمولی ہتھیار بھی سب کے پاس پورے نہ تھے ـ کسی کے پاس تلوار تھی تو تیر اور کمان نہ تھی اور کسی کے پاس نیزہ تھا تو تلوار نہ تھی ـ اس کے علاوہ مسلمان عام طور پر فاقہ زدہ، ناتواں ، بیمار اور ضعیف تھے ـ
اس کے بر خلاف کفار سب کے سب زرہ پوش اور تمام ہتھیاروں سے مسلح اور جوان و توانہ تھے ـ
یہ بے سروسامان مجاہدین اسلام اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے جب میدان بدر میں پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ کفار مکہ میدان کے بالائی اور بہترین حصوں پر قابض ہو چکے ہیں ـ بے چارے مسلمانوں کو جو جگہ ملی تھی وہاں نہ کوئی پانی کا چشمہ تھا اور نہ کنواں ـ زمین اس قدر ریتیلی تھی کہ اونٹوں کے پاؤں دھنسے جارہے تھے ـ صحابیوں نے رائے دی کہ آگے بڑھ کر پانی کے چشموں پر قبضہ کر لیا جائے اور آس پاس کے کنویں بے کار کردئے جائیں ـ رسول اکرم صلعم نے یہ رائے پسند فرمائی اور اس پر عمل کیا گیا ـ
رات میں صحابہ سو گئے لیکن آپ صبح تک بیدار اور مصروف دعا رہے ـ صبح کو نماز ادا کی اور نماز کے بعد رسول صلعم نے جہاد پر واعظ فرمایا اور پھر صف بندی شروع کی ـ آپ صلعم کے دست مبارک میں ایک تیر تھا جس کے اشارے سے آپ صفیں قائم فرماتے رہے ـ جب حضور صلعم صف آرائی سے فارغ ہو گئے تو آپ نے بارگاہ الٰٰہی میں رو رو کر دعا کی کہ " الٰہی اگر تو نے اس چھوٹی سی جماعت کو ہلاک کردیا تو زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی باقی نہ رہےگا " پھر آپ صلعم نے دو رکعت نماز پڑھی جس کے بعد آپ صلعم پر غنودگی سی طاری ہوگئی اوع اسی غنودگی کے عالم میں آپ صلعم کو بشارت ملی کہ مسلمان فتح یاب ہوں گے ـاس خوش خبری کے بعد آپ صلعم مسکراتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا کہ " کفار کو شکست ہوگی اور وہ پیٹھ پھیر کے بھاگ جائیں گے ـ مختصر یہ کہ سترہ(17) رمضان المبارک 2ھ کو میدان کا راز گرم ہوگیا ـ
*میدان بدر میں مسلمانوں کی جانبازی*: -لڑائی اس طرح شروع ہوئی کہ سب سے پہلے عمر و بن حضر کا بھائی عامر بن حضر جو اپنے بھائی کے خون کا بدلہ لینا چاہتا تھا آگے بڑھا اور اس نے للکار کر اپنا مد مقابل طلب کیا ـ پھر عتبہ،شیبہ اور ولید جو مشہور جنگجو تھے میدان میں آئےجن کے مقابلے کے لئے حضرت علی،حضرت حمزہ اور عبیدہ بن الحرث آگے بڑھے ـ اس انفرادی مقابلہ میں عتبہ اور ولید تو حضرت حمزہ اور حضرت علی کے ہاتھ سے مارے گئے لیکن شیبہ نے عبیدہ کے ایسا کاری زخم لگایا کہ عبیدہ گر پڑے،فورا"حضرت علی آگے بڑھے اور آپ نے شیبہ کا کام تمام کردیا اور عبیدہ کو کندھے پر اٹھا کر رسول اللہ صلعم کی خدمت میں لے آئے ـ عبیدہ نے حضور صلعم سے پوچھا کہ "کیا میں دولت شہادت سے محروم رہاـ" حضور صلعم نے فرمایا ـ"تم نے شہادت پائی " یہ سنتے ہی عبیدہ نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور داعی اجل کو لبیک کہا ـ
انفردی جنگ کے بعد اجتماعی جنگ چھڑ گئی ـ دونوں طرف سے صفیں ٹوٹ پڑیں اور بری طرح خوں ریزی ہونے لگی ـ دو انصاری نو جوان معوذ اور عفرار( رض) ابو جہل کی تاک میں میں تھے ـ انھوں نے نظرپڑتے ہی اس کا کام تمام کردیا ـ یہ دیکھ کر ابو جہل کا لڑکا معوذ پر جھپٹ پڑا اور تلوار کا ایک ایسا وار کیا کہ ان کا ہاتھ نشانے سے کٹ کر الگ ہوگیا مگر معوذ پھر بھی لرتے رہے اور کٹا ہوا ہاتھ الگ کردیا ـ
ابو جہل اور عتبہ کے قتل ہوتے ہی کفار مکہ کے لشکر میں بدولی پھیل گئی اور ان کو شکست ہو گئی ـ اس جنگ میں کفار مکہ کے تقریبا" تمام بڑے بڑے سردار مارے گئے جیسے سالار جنگ عتبہ بن ربیعہ،شیبہ، ابوجہل،زمعہ بن اسود، عاص بن ہشام اور امیہ بن خلف مع ان سرداروں کے کفار کے ستر(70)آدمی کام آئے اور اسی قدر گرفتار ہوئے جبکہ مسلمانوں میں سے صرف چودہ(14) آدمیوں نے جام شہادت نوش فرمایا جن میں چھ (6)مہاجر اور آٹھ(8) انصار تھے ـ غرض یہ کہ یہ اسلام کی سب سے پہلی جنگ مسلمانوں کی شاندار پر ختم ہوئی اور کفار مکہ کو کثرت تعداد کے باوجود بری طرح شکست کا منہ دیکھنا پڑا
Comments
Post a Comment